بنگلورو،13؍مارچ(ایس او نیوز) سینئر کانگریس رہنما اور رکن کونسل سی ایم ابراہیم نے ہفتہ کے روز کانگریس کی بنیادی رکنیت اور ریاستی لیجس لیٹو کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
اپنی رہائش گاہ پر ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو روانہ کئے گئے اپنے استعفے کی نقل میڈیا کو جاری کی اور کہا کہ اب وہ ایک آزاد فرد ہیں اور آنے والے دنوں میں کھلے ذہن کے ساتھ وہ جنتا دل(ایس) میں شامل ہو نے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابی نتائج کو دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ کانگریس اب اس ملک کے عوام میں اپنی مقبولیت پوری طرح گنوا چکی ہے۔ کرناٹک میں اتر پردیش جیسے حالات پیدا ہونے نہیں دئیے جائیں گے۔ اپنی کونسل کی رکنیت سے بھی وہ مستعفی ہو رہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں پوری آزادی کے ساتھ جو بھی سیاسی فیصلہ لینا چاہیں لے سکیں۔
کانگریس کو ایک ڈوبتی کشتی قراردیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس پارٹی میں رہ کر وہ اپنی عزت نفس کے ساتھ سودا کرنا نہیں چاہتے۔کرناٹک میں اگر ایڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت بن سکی تو اس کیلئے بی جے پی کے تئیں سدارامیا کا نرم رویہ ذمہ دار ہے۔ جس طرح پنجاب میں آپسی اختلافات کے نتیجے میں کانگریس کی ہار ہوئی، کرناٹک میں بھی آنے والے دنوں میں کانگریس کا ایسا ہی حشر ہونے والا ہے۔
جنتا دل (ایس) میں شمولیت کے واضح اشارے دیتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہا کہ قومی رہنما دیوے گوڈا، ایچ ڈی کمارسوامی اور ایچ ڈی ریونا سے وہ بات چیت کریں گے۔ جے ڈی ایس میں شامل ہو کر ہی وہ ریاست بھر میں اپنی تحریک کی شروعات کریں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس قیادت کی طرف سے گزشتہ 70 سال کے دوران ریاست میں کسی مسلمان کو صدر نہیں بنایا گیا، کبھی کسی مسلم رہنما کو اچھے قلمدان کی وزارت نہیں دی گئی۔ اقتدار میں حصے داری نہ دی نہ سہی کم از کم ان کے وقار کی حفاظت کا مرحلہ آیا تو اس وقت بھی اگر کانگریس نے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیا تو ایسی پارٹی سے جڑے رہنے کا کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ حجاب کا مسئلہ آیا تو پارٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے کہہ دیا کہ اس پر کوئی کچھ نہیں بولے گا۔ اگر ایسی گھٹن کا ماحول ہے تو اس پارٹی میں رہنا ہی کیوں ہے۔ پارٹی قیادت کو انہوں نے بارہ مرتبہ خط لکھ کر کہا ہے کہ اقلیتوں کو اس طرح نظر اندازنہ کیا جائے۔ یہ بات سچ ہے کہ سدارامیا جھوٹ نہیں بولتے۔ لیکن ان میں سچ بولنے کی ہمت بھی نہیں۔ وہ اب تک اصولوں کی بنیاد پر جدوجہد کر رہے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ جنتا دل(ایس) میں شامل ہو رہے ہیں۔
جے ڈی ایس میں شمولیت کیلئے ان کی شرط کیا ہے اس سوال پر سی ایم ابراہیم نے کہا کہ اس پر وہ عوامی بحث کرنا نہیں چاہتے۔ جلد ہی کانگریس اور بی جے پی دونوں پارٹیوں سے لیڈروں کے استعفوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔ سی ایم ابراہیم نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو روانہ کئے گئے اپنے استعفے میں کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے عہدے کیلئے ایوان بالا کے سب سے جونیئر ممبربی کے ہری پرساد کو مقرر کئے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ پارٹی قیادت کا یہ فیصلہ غلط تھا۔ اس پر اپنی ناراضگی سے بھی انہوں نے پارٹی صدر کو واقف کروایا تھالیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اس لئے وہ فی الفور پارٹی کی بنیادی رکنیت اور کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس لجس لیچر پارٹی کے رہنما سدارامیا کو بھی اپنا استعفیٰ منظوری کیلئے روانہ کردیا ہے۔